7

پاکستانی زائرین کی میزبانی اور انہیں خدمات فراہم کرنا ہمارے لئے اعزاز ہے، گورنر سیستان و بلوچستان



مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیستان وبلوچستان کے گورنر ہاوس کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ گورنر حسین مدرس خیابانی نے سیستان و بلوچستان کی اربعین کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں گورنر کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کربلائے معلی جانے والے پاکستانی زائرین کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے آخری وقت تک کوششیں جاری رکھیں گے اور اگر اربعین کے روز کوئی بنیادی ڈھانچہ بنانے کی ضرورت ہو تو اسے انجام پانا چاہئے۔ 

صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ اربعین امام حسین (ع) پر جانے والے پاکستانی زائرین کی میزبانی اور انہیں خدمات فراہم کرنا ہمارے لئے اعزاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زائرین کی میزبانی کے لئے فری زونز کی جانب سے آمادگی کے اظہار کے پیش نظر چابہار کا فری زون وسیع پیمانے پر اربعین کے زائرین کی خدمت کے لئے تیار ہے۔   

انہوں نے زائرین کے لئے مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائپ لائن، ٹینکر اور منرل واٹر کے ذریعے زائرین کی خدمت کے لئے تیار ہیں۔ لازمی ہے کہ خدمات فراہم کرنے والے تمام ادارے میر جاوہ اور ریمدان کے باڈر پر اپنا ایک مستقل اور بااختیار نمائندہ تعینات کریں جسے لگ بھگ ایک مہینہ ان باڈروں پر زائرین کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس میں موجود رہنا پڑے گا۔ تمام انتظامی اداروں کی جانب سے آمادگی کے اعلان کے بعد کاموں کی تقسیم کا عمل انجام پا چکا ہے تا کہ باڈر پوائنٹس پر اربعین کے زائرین کو خدمات پہنچانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ 

اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مدرس خیابانی کا کہنا تھا کہ بلاتردید اربعین کے زائرین کی خدمت ایک عوامی کام ہے لہذا تمام عہدیداروں اور منتظمین پر لازم ہے کہ اس کام میں سہولت فراہم کرنے کے  لئے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لائیں۔ اندازوں کے مطابق اربعین کے ایام میں ریمدان اور میر جاوہ کے باڈروں پر ہمیں زائرین کی بہت بڑی تعداد کا سامنا ہوگا، لہذا وزیر داخلہ کے احکامات کے مطابق تمام امور صوبائی انتظامیہ سے ہماہنگی کے ساتھ انجام دیئے جائیں۔ صوبے کے تمام شہروں میں اربعین کمیٹی تشکیل دی جائے کیونکہ اربعین حسینی کی کشش پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔  

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی بسوں کوایندھن کی فراہمی کے لئے تین موبائل فیول اسٹیشن بنائے جائیں اور پاکستانی زائرین کو لے کر جانے والی ہر بس کے لئے پٹرول پمپوں میں مخصوص جگہ رکھی جائے۔ معاونت فراہم کرنے والے اسپتال، ایئرایمبولینس اور فیلڈ ہاسپٹل لگائے جائیں جبکہ میر جاوہ اور ریمدان باڈر پر دو موبائل طبی مرکز قائم کئے جائیں۔  

سیستان و بلوچستان کے گورنر نے باڈر پوائنٹس پر حفظان صحت کی ہدایات پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حلال احمر اور وزارت صحت کے تعاون کی بدولت پاکستانی زائرین کو باڈرز پر کمترین تعطل کا سامنا ہوگا۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں