14

وزیراعلی کے سی آر نے بی جے پی حکومت کو کسان مخالف حکومت قرار دیتے ہوئے مرکز اور بالخصوص وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

وزیراعلیٰ جناب کے چندرشیکھر راؤ نے اپنی ہندی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیراعلی جناب کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی کو تلنگانہ ریاست سے دھان کی زیر التواء خریداری سے متعلق فیصلہ لینے کے لیے 24 گھنٹوں کا وقت دیا۔ وزیراعلی یہاں دھان کے کاشتکاروں کی پریشانیوں کو دور کرنے میں مرکزی حکومت کی جانب سے برتی جارہی بے حسی کے خلاف ٹی آر ایس کی جانب سے منعقدہ دھرنے میں شریک تھے۔ دہلی میں واقع تلنگانہ بھون میں منعقدہ اس دھرنے میں قومی کسان یونین کے قائد شری راکیش ٹکیت کے علاوہ ریاستی وزراء، اراکین اسمبلی و پارلیمان اور ریاست تلنگانہ سے دیگر عوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ قائدین 2000 کلومیٹر کی دوری سے دہلی آئے ہیں تاکہ کسانوں کے حقوق کے لیے شروع کی گئی اس تحریک میں حصہ لے سکیں۔

وزیراعلی نے بی جے پی حکومت کو کسان مخالف حکومت قرار دیتے ہوئے مرکز اور بالخصوص وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے سی آر نے انتباہ دیا کہ اگر مرکز کسانوں سے براہ راست دھان کی خریدی کے انکے مطالبے کی تکمیل میں ناکام رہتی ہے تو ایسے میں وہ مودی حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جہاں کہیں کسانوں کو رُلایا گیا تب وہاں حکومت اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ اقتدار میں کوئی بھی مستقلاً نہیں رہتا ہے۔ اقتدار بدلتا رہتا ہے تاہم کسانوں کی فلاح و بہبود اہم ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے کسانوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ کسانوں کو اصل ترین امدادی قیمت حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ کے سی آر نے وزیراعظم سے نئی زرعی پالیسی وضع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہوئے کہا کہ “مودی اور مرکزی وزیر پیوش گوئل اندرون 24 گھنٹے دھان کی خریداری کے تلنگانہ کے مطالبے کا جواب دیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو انکی حکومت دھان کی خریداری سے متعلق خود فیصلہ کرے گی۔”

کے سی آر نے مرکزی وزیر پیوش گوئل پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’پیوش گول مال‘ قرار دیا۔ انہوں نے دھان کے مسئلہ پر تلنگانہ کی توہین کرنے پر پیوش گوئل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب تلنگانہ کے وزراء کے ایک وفد نے نئی دہلی میں دھان کے مسئلے پر گوئل سے ملاقات کی تو وہ اس وفد کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئے۔

وزیراعلی نے کہا کہ انکی حکومت نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اندرون 8 سال، ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کر کے عملاً ایک چمتکار کردیا ہے۔

ٹی آر ایس سربراہ نے حیدرآباد میں دھرنا منظم کرنے پر تلنگانہ بی جے پی قائدین پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ “تلنگانہ کے کسان دہلی میں دھرنا دے رہے ہیں اور بی جے پی قائدین حیدرآباد میں دھرنا دینے میں مصروف ہیں۔ جس پر انہیں اپنے آپ پر شرم آنی چاہئے۔ وزیراعلی نے سخت الفاظ میں کہا کہ انکی حکومت اتنی کمزور نہیں ہے کے وہ اپنے کسانوں کو گنگا میں ڈھکیل دیں گے… وزیراعلی نے کہا کہ انکی حکومت انہیں بچا لی گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ حکومت ایک سازشی حکومت ہے۔ وزیراعلی نے استفسار کیا کہ آیا “بڑی باتیں کرنے والے پردھان منتری کے پاس دھن نہیں ہے یا من نہیں ہے”؟۔

کے سی آر نے واضح کیا کہ وہ جلد ہی اپوزیشن لیڈروں کو ایک ملک – ایک خریداری کی پالیسی کے مطالبے پر متحد کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے سی بی آئی، ای ڈی اور آئی ٹی محکموں کی جانب سے مخالف بی جے پی قائدین کو نشانہ بنائے جانے پر بھی سخت اعتراض جتایا اور استفسار کیا کہ کیوں یہ ایجنسیاں بی جے پی لیڈروں کے پاس نہیں جاتیں؟ انہوں نے بی جے پی قائدین کی جانب سے انکے خلاف کئے گئے تبصرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے چند ’چھوٹے کتّے‘ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے انہیں ایسا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے چیلنج کیا۔ کے سی آر نے مزید کہا کہ فی الحال مرکز میں کوئی جنتنتر نہیں بلکہ ایک شدی ینتر راج ہے۔

کے سی آر نے اس موقع پر متحدہ آندھراپردیش میں کسانوں کی حالت زار کی بھی وضاحت کی اور کہا کہ اس وقت بورویلوں کی کل تعداد 30 لاکھ تھی جو کہ ملک بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ زیر زمین سطح آب 1000 فٹ تک نیچے چلی گئی تھی اور زرعی کے شعبے کو بجلی کی سربراہی بمشکل پانچ تا چھ گھنٹے ہوا کرتی تھی۔ ضلع محبوب نگر سے تقریباً 20 لاکھ لوگ روزی روٹی کے لیے دوسرے مقامات کو نقل مکانی کرگئے تھے۔ سال 1956 سے ریاست تلنگانہ کے قیام تک تلنگانہ ریاست کےلیے جدوجہد جاری رہی تھی اور بہت سے لوگوں نے اپنی جانیں بھی قربان کیں۔ صرف سال 1969 کی تحریک میں ہی تلنگانہ کے حصول کے لیے 400 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔

کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی کا قیام 2001 میں جئے تلنگانہ کے نعرے کے ساتھ کیا گیا تھا اور اس پارٹی نے ملک کی بہت ساری سیاسی جماعتوں کو علیحدہ ریاست کے لیے راضی کرلیا تھا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس نے نو تشکیل شدہ ریاست میں اقتدار سنبھالا اور زراعت کو اولین ترجیح دی۔ 46,000 آبی ذخائر پانی سے بھر گئے ہیں اور فارم سیکٹر کو 24 گھنٹے معیاری بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب گجرات کے کسان بجلی کی فراہمی کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اور جیسا کہ ٹکیت جی نے کہا ہے “ملک میں تلنگانہ ہی ایسی واحد ریاست ہے جو 24 گھنٹے بجلی سربراہ کررہی ہے۔ اسی طرح اب 30 لاکھ بورویلس بھی کارکرد ہوچکے ہیں۔

کے سی آر نے کہا کہ وہ ٹکیت جی کے اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ ملک میں جلد ہی ایک ’مہاسنگرامم‘ شروع کیا جانا چاہیے۔ تمام کسانوں کو متحد ہو کر ٹکیت کا ساتھ دینا کے ساتھ چاہیے۔ کسانوں کے لیے ایک بڑی لڑائی لڑنے کا وقت اب آ گیا ہے۔ ‘ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح مرکزی حکومت کی جانب سے ٹکیت کی توہین کی گئی ہے۔ یہ بڑی ہی بدقسمتی کی بات ہیک ٹکیت جی کو خالستانی اور دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ کسان قائد کو ہراساں کیا گیا اور کسانوں کی تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا گیا۔ زرعی قوانین کے خلاف و نیز کاشتکاروں کے حق میں منظم کردہ کسان ایجی ٹیشن جو کہ 13 ماہ تک جاری رہا وہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے۔ “کسانوں کی جانب سے شروع کردہ اس جدوجہد کے ملک بھر میں پھیل جانے کے بعد وزیراعظم کو کسان مخالف قوانین لانے پر معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا اور ہمارے وزیراعظم معافی مانگنے میں ماہر بھی ہیں۔”

ٹی آر ایس سربراہ نے متنبہ کیا کہ تمام ہم خیال سیاسی قائدین کے ساتھ ایک مضبوط محاز جلد ہی تشکیل دیا جائے گا اور مودی حکومت کے خلاف ملک بھر میں ہلچل مچادی جائے گی۔ وزیراعلی نے یاد دلایا کہ ہٹلر اور نپولین نے بھی اپنے ملکوں پر حکومت کی اور چلتے بنے۔ اقتدار مستقل نہیں ہوتا اور کوئی بھی 1000 سال تک کسی ملک پر حکومت نہیں کرسکتا۔

کے سی آر نے مزید کہا کہ مرکز نے شعبے کاشتکاری کو کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے کرنے کی سازش رچی ہے۔ مرکز کارپوریٹس کو کسانوں کی اراضی تحفے میں دیکر ملک کے کسانوں کو خود ان کی اپنی ہی اراضیات پر مزدور بنادینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مرکز نے کھیتوں میں بورویلوں پر بجلی کے میٹر تنصیب کرنے کی بھی سازش رچی ہے۔ اُترپردیش میں یہ پہلے سے ہی نافذ العمل ہے۔ وزیراعلی نے واضح کردیا کہ بہت جلد وہ دہلی واپس آئیں گے اور قومی سطح پر سیاست میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر صدارتی انتخابات اور مرکزی پالیسیوں پر بھی مباحث کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وہ سال 1978 اور 1980 کے دوران یوتھ لیڈر ہوا کرتے تھے تب راکیش ٹکیت جی کے والد مہندر سنگھ ٹکیت کی صرف ایک آواز پر لاکھوں کسان اکٹھے ہوجایا کرتے تھے۔ وزیراعلی نے کہا کہ “وہ مہندر سنگھ جی اور راکیش ٹکیت جی دونوں کا احترام کرتے ہیں جیسا کہ دونوں ہی قائدین ہمیشہ کسانوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں