26

مسئلۂ حجاب اور ملی مفاد میں شیعہ علماء اسمبلی مسلم تنظیموں کے شانہ بہ شانہ

(پریس ریلیز) 8/ اپریل، فسطائی طاقتوں کے ذریعہ کرناٹک سے شروع کیا گیا مسئلۂ حجاب ملک گیر بنتا جا رہا ہے اور اب یہ بات پوشیدہ نہیں رہ گئی ہے کہ یہ مسئلہ کچھ ملک دشمن عناصر کے ذریعہ، ملک کے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر آتنک واد پھیلانے اور ملک کو توڑنے کے لئے شروع کیا گیا ہے ۔
اس کا اصل مقصد مسلمان خواتین کو اُن کے مذہبی و آئینی حقوق سے محروم کرنا ہے، اپنے انہی حقوق کے دفاع کے لئے کرناٹک کی مسلم طالبات نے ہائی کورٹ کا رُخ کیا تھا لیکن کورٹ، اسلام میں حجاب کی اہمیت و ضرورت کو سمجھ نہ سکا اور حجاب کی ضرورت کے خلاف فیصلہ سنا دیا جس کو چیلنج کرنے کے لئے مسلم تنظیموں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
اسی سلسلہ میں مجلس خاص ’شیعہ علماء اسمبلی ہندوستان‘ کی آج صبح 10 بجے آن لائن میٹنگ ہوئی جس میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا، میٹنگ میں اتفاق آراء سے یہ بھی طے کیا گیا کہ چونکہ حجاب، اسلامی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا بھی حصہ ہے لہٰذا ہم اُن تمام مسلم تنظیموں کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے جو مسئلۂ حجاب کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جائیں گی۔
میٹنگ میں مولانا قاضی عسکری دہلی، مولانا صفی حیدر لکھنؤ، مولانا غلام رسول نوری سری نگر، مولانا منظر صادق لکھنؤ، مولانا مختار حسین جعفری جموں، مولانا محسن تقوی دہلی، مولانا فیاض باقر ممبئی، مولانا پیغمبر عباس نوگانواں سادات، مولانا قمر حسنین دہلی، مولانا غلام محمد مہدی چنئی نے شرکت کی نیز مجلس خاص کے علاوہ انجینئر اور معروف دانشور علی قلی قرائی حیدر آبادی مقیم ایران، مولانا نبی رضا علی پوری مقیم کناڈااورایڈوکیٹ مولانا مجاہد حسین حیدر آباد کو بھی میٹنگ میں شامل کیا گیا۔
معلوم ہو کہ’شیعہ علماء اسمبلی ہندوستان‘ کرناٹک حجاب مسئلے کے اٹھنےکے اول روز سے ہی مذہبی اور قانونی پہلوؤں پر غور کر رہی ہے اور سرگرم عمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں