227

قلم آزاد نہیں ہو تو صحافت بھی آزاد نھیں پانچ روزہ قومی آن لائن ورکشاپ سے سنیر صحافیوں کا خطاب

حیدرآبا د۔ 14جولائی2021ء (سرفرازنیوزایجنسی)۔ تلنگانہ ریاستی ا ردواکیڈیمی کے زیر اہتمام اردو صحافیوں کی فنی و ٹیکنیکی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور انہیں نئے دور سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی خاطر جناب ڈاکٹر محمد رحیم الدین انصاری صدرنشین تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی کی صدارت میں 13 تا 17 جولائی2021 ء پانچ روزہ قومی آن لائن ورکشاپ کاافتتاحی اجلاس بمقام خواجہ شوق ہال‘ اُردو مسکن‘ خلوت‘ حیدرآباد منعقد ہوا۔ ممتازقاری ڈاکٹر محمد نصیر الدین منشاوی کی قرات کلام پاک سے اجلاس کا افتتاح ہوا۔ جناب ڈاکٹر محمد رحیم الدین انصاری صدرنشین تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی نے اس اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی اور قومی زندگی میں صحافت کی ہمیشہ اہمیت رہی ہے اور صحافت میں معاشرے کے جذبات‘ احساسات اور مطالبات کی ترجمانی ہوتی ہے۔انہو ں نے کہا کہ صحافت نہ صرف وقت کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے بلکہ صحت مند سماجی سیاسی ثقافتی اور معاشی رجحانات کو فروغ دینے میں بھی اہم رول ادا کرتی ہے اسی طرح انسانی فلاح و بہبود‘ مفاد عامہ اور سماجی قدروں کی پاسبانی اس پیشے کے خمیر میں شامل ہے۔صدرنشین تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی نے کہا کہ صحافت کے بنیادی فرائض میں عوام کو مقامی ملکی اور بین الاقوامی حالات سے باخبر رکھناہوتا ہے۔اسے ایک معلم کی طرح معاشرے کو تمام شعبوں کا درس بھی دینا ہوتا ہے۔انہو ں نے صحافت کو تجارت بنانے سے گریز کرنے کی اپیل کی‘ انہوں نے اردو صحافت کو اپنے پیشے کے جدید ترین تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جدید صحافتی ٹکنیک کو ا پنانا ہوگا۔اس افتتاحی اجلاس کی مہمان محترمہ عارفہ خانم شیروانی سینئر ایڈیٹر دی وائر نئی دہلی نے اپنے آن لائن کلیدی خطبے میں صحافت سے متعلق اہم امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر طرح کے خطرات اٹھانے پڑتے ہیں‘انہوں نے کہاکہ جرنلزم کے اصول ہوتے ہیں اور وہ کبھی بدلتے نہیں بلکہ پلاٹ فارم بدل سکتاہے مثلاً اخبار‘ ریڈیو‘ ٹی وی وغیرہ پلاٹ فارم ہوسکتے ہیں مگر صحافت کے اصول اپنی جگہ ہوں گے۔محترمہ عارفہ خانم نے کہا کہ بعض اوقات صحافت پر حقائق بیان کرنے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں اور ان کی فیملی کو ڈرایا دھمکایا جاتاہے۔ایسے میں نئے لوگ جوصحافت میں داخل ہونا چاہتے ہیں وہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ہم کہاں آگئے۔انہوں نے اپنے کلیدی خطبے میں بتایا کہ آج کے دور میں اقلیتوں‘ کسانوں اور بچھڑے طبقات کو غیر مہذب کیا جارہا ہے‘ صحافت کو نشانہ بنایا جارہا ہے‘محترمہ عارفہ خانم نے کہا کہ اردو صحافیوں کو چاہیے کہ وہ Digital Revolution کی طرف قدم اٹھائیں‘ اس انقلاب سے فائدہ اٹھائیں۔ایک اور مہمان جناب شاہد لطیف ایڈیٹر روزنامہ انقلاب ممبئی نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آج کے دورمیں اردو صحافت کے لئے اٹھایا گیا یہ قدم نہایت خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے ورکشاپس کے ذریعہ تدریسی عمل جاری رہنا چاہیے‘ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صحافت کو فن کے طور پر برتنے کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جناب شاہد لطیف نے کہا کہ اردو صحافت کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے‘ انہو ں نے کہا کہ اردو صحافت کے ذریعہ بھی بہت اچھے آرٹیکلس اور رپورٹس آرہی ہیں۔ ایڈیٹر انقلاب ممبئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم صحافت کو اپنے احساسات اور جذبات کے اظہار کاذریعہ سمجھیں۔انہو ں نے کہا کہ صحافت کے ذریعہ اپنے تمام معاملات جیسے جہیز کا مسئلہ‘ معاشیات کا مسئلہ ہے‘ تعلیم کی طرف راغب کرنے کی بات ہے‘حقائق کا اظہار اور برائیوں کو دور کرنے کی باتیں ہیں‘ ان تمام مسائلکا صحافت بہتر طریقے سے اظہار کرسکتی ہے‘ان حقائق کے اظہار سے آپ پر کوئی قدغن نہیں لگے گی‘ آپ ان تمام چیزوں کو مثبت انداز میں بیان کرسکتے ہیں‘ جناب شاہد لطیف نے کہا کہ صحافت خدمت خلق ا ور امر باالمعروف کا بھی بہترین ذریعہ ہے‘ اگر اس طریقہ سے اخلاص کے ساتھ خدمت ہوگئی تو یہ عبادت بن جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اردو والوں کے پاس ترجمہ کرنے اور سائنس اورٹکنالوجی کے میدان میں لکھنے والوں کی کمی ہے‘ اس کمی کو بھی پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔اس اجلاس سے مہمان اعزازی پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی ڈائرکٹر سی پی ڈی یو ایم ٹی مانو حیدرآباد اور جناب سید جیلانی نے بھی خطاب کیا۔ نگران اجلاس ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر /سکریٹری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی کے زیر اہتمام اردوصحافیوں کے لئے منعقد کردہ اس پانچ روزہ آن لائن ورکشاپ میں ہندوستان بھر سے تقریباً 700سے زائد صحافی شریک ہورہے ہیں۔ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر /سکریٹری نے افتتاحی کلمات کے ساتھ پاور پوائنٹ Presentationمیں ویب بلاگ بنانے کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے اس ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس کے تمام شرکاء خاص کرڈاکٹر محمد رحیم الدین انصاری صاحب صدرنشین تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی‘تمام مہمانان خصوصی و اعزازی کا خیر مقدم کیا۔افتتاحی اجلاس کے بعد پہلا ٹکنیکل اجلاس منعقد ہوا جس میں سینئر صحافی جناب ایم اے ماجد نے ”میڈیا امکانات اور چیالنجس“ کے عنوان سے اپنا لکچر دیا۔انہو ں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی نے بین الاقوامی طور پر اس ورکشاپ کے ذریعہ 1821 سے اس وقت تک اردو صحافت کی دو سو سالہ تقریب کی ابتداء کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1821 ء میں اُردو کا پہلا اخبار شائع ہوا تھا‘انہوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ آزادی کی لڑائی میں پہلا شہید بھی اردو کا ایک صحافی ہے‘ انہو ں نے صحافت اور قلم کار کی مثال قرآن کریم جس میں لوح و قلم کا ذکر ہے سے دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کے تصور کے ساتھ اور قرآن کے ذکر کی روشنی میں صحافت کاکام انجام دیں تو یہ چیز عبادت میں داخل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خبروں کو اور واقعات کو جانچ پرکھ کر حقائق بیان کرنا چاہیے ورنہ اگر صحافت سے صداقت سے نکال دیا جائے تو پھر صحافت‘ صحافت نہیں رہتی۔انہوں نے قلم کو آزاد رکھنے کے بارے میں کہا کہ جب تک قلم آزاد نہیں ہوتا صحافت بھی آزاد نہیں ہوتی۔جناب ایم اے ماجد نے اردو صحافیوں سے اس قومی ورکشاپ سے استفادہ کی خواہش کی۔ورکشاپ کوآرڈنیٹر ایس ایم فصیح اللہ نے ورکشاپ کے بارے میں تفصیل سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ جناب محمد آصف علی جرنلسٹ نے افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلائی۔ عہدیداران و اراکین اردواکیڈیمی مسٹر وی کرشنا‘شیخ اسمٰعیل‘ ڈاکٹر احتشام الدین خرم‘ محمد ارشد مبین زبیری‘اطہر خان‘ محمد جنید اللہ بیگ‘ محمد رفیع‘ یوسف خان‘ اختر حسین‘ معین خان و دیگر ارکان عملہ نے انتظامات میں حصہ لیا۔آخر میں جناب طاہر رومانی نے تمام شرکائے اجلاس‘ صحافیوں‘ ریسورس پرسنس اور اُردواکیڈیمی کے عہدیداران و ارکان عملہ کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں