3

پھانسیاں دینے کا ریکارڈ قائم کرنے والے مصری جلاد کا انتقال

مصری جیلوں میں 1070 افراد کے گلوں میں پھانسی کا پھندا ڈالنے والے جلاد حسین العشماوی کا اتوار کو انتقال ہوگیا- یہ مصر کے سب سے مشہور جلاد مانے جاتے تھے-
مصر الیوم ویب سائٹ کے مطابق حسین قرنی 1947 میں الغربیہ الکبری صوبے کی تحصیل سمنود میں پیدا ہوئے تھے- قرآن کریم کے کئی سپاروں کے حافظ تھے- حسین قرنی نے امتحان پاس کرکے معاون سپاہی کی اسامی پر تقرری کی درخواست دی تھی- حسن کارکردگی پر انہیں محکمہ جیل خانہ جات منتقل کردیا گیا- انہوں نے 1980 میں احمد عشماوی نامی جلاد کے معاون کے طور پر کام کیا-
ابتدا میں حسین قرنی کا کام موت کے قیدی کو اس کے کمرے سے لانا، اسے قابو کرنا اور پھانسی والے کمرے تک پہنچانا ہوتا تھا- حسین قرنی اپنی یہ ڈیوٹی دیتے وقت ضروری اشیا کا تھیلا اپنے ہمراہ رکھتے تھے- اس تھیلے میں کاٹن کی رسی، سریہ اور کالی ٹوپی رکھی ہوتی تھی- حسین قرنی زندگی بھر سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دیتے رہے-
حسین قرنی نے سب سے پہلے ایک خاتون کو پھانسی دی تھی جنہوں نے اپنے شوہر اور ان کے بھائی کو تنہا جیل میں قتل کردیا تھا- یہیں سے ان کی زندگی کا یہ دور شروع ہوا- بالآخر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوگیا- حسین عشماوی نے 1070 افراد کو پھانسی دی، ان میں سے 20 فیصد وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنے شوہروں کو قتل کیا تھا- دنیا بھر میں سب سے زیادہ موت کے سزا یافتگان کو پھانسی دینے والے حسین قرنی ہی تھے- اس وجہ سے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوا-
حسین عشماوی 1990 سے لے کر جنوری کے واقعات کے آغاز تک سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسی دیتے رہے ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں