55

عبادت خانہ حسینی کی تعمیر میں رکاوٹ غیر ایمانی ہو نے کی علامت مچمع علماءوخطباءحیدرآباددکن کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ۔۔
اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُھتَدِین( سورہ توبہ ۔۔آیت ١٨)
ترجمہ:
۔اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز قائم کرتے ہوں نیز زکوٰۃ ادا کرتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھاتے ہوں، پس امید ہے کہ یہ لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اس آیۃ کریمہ میں مساجد تعمیرکرنےوالوں کے صفات بیان کئیےگئےہیں اور واضح کردیاگیاہےکہ وہی لوگ تعمیر کرسکتے ہیں جنکےصفات آیت میں مذکورہوئےہیں لہذا جوکوئی ان صفات کاحامل ہوگاوہی مساجد کی تعمیرمیں حصہ لےگاچاہے دام،درھم وسخن ہی کیوں نہ ہوجواس امرکا عزم کرلےتو قدرت خدا بھی اسکے ساتھ ہوگی اب اسے کسی کی پرواہ نہ ہوگی کیوںکہ قدرت اسکی حامی ہے توایسے نیک اقدام میں تمام مومنین کوچائیے کہ وہ آگے بڑھ چڑھ کے حصہ لیں۔شہر
حیدرآباد میں مومنین مساجد اورمساجد کی حکم رکھنے والی جگاہیں ( جہاں سجدے گذار سجدے کرنےکے لئیے وعبادت گاہیں و مساجد تعمیرکرتےآئیں ہیں) ان میں عبادت خانہ حسینی دارالشفاء قدیم اور مشہورترین( عبادت گاہ) ہے اوربہت بڑا مرکز جانا جاتا رہا ہے اس لئیے اس جگہ میں وسعت کی غرض سے وسیع وشاندار عمارت تعمیر کرنے کا عزم کیاگیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مومنین جمع ہو سکیں اور نماز قائم کرسکیں اوربندگئ الھی انجام دے سکیں ۔ ایک طرف
اسکی وسعت اورتعمیری امورمیں مومنین بڑھ چڑھ کےحصہ لیکر اپنے ایمان باللہ وآخرت کوثابت کررہےہیں تووہیں رکاوٹ پیداکرنےکی کوشش اورہائی کورٹ میں غیر قانونی جگہ بتاکرپٹیشن ڈالاجارہاہےجبکہ محکمہ بلدیہ اوروقف بورڈ کی جانب سےعبادت خانہ کی کمیٹی کوتعمیرکرنےکی اجازت حاصل ہے اس تعمیر کےلئیے حصہ بننے کے بجائےرکاوٹ کی کوشش کرناگویااپنے لئیےآیت کے مذکورہ صفات سے خالی ہوناثابت کرلینا ہے۔اس آیت یہ بھی واضح ہے کہ تولیت بھی ان ہی کی ہوگی جو صاحب ایمان ہواور شرک کرکے خداکی شان میں گستاخی وجسارت نہ کرتاہواورآخرت پرایمان رکھتاہواورنمازقائم کرتاہواور زکوۃ اداکرتاہو جوان صفات سے خالی ہوگاوہ کیسےحصہ لےگا ۔اور اس آیت کے آخری حصہ میں یہ بھی بیان ہورہا ہے کہ
۔ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ: غیر اللہ سے خوف کھانا بھی ایک قسم کا شرک خفی ہے۔ یہ بھی ان میں نہ ہو تو خانۂ خدا کے معمار بن سکتے ہیں۔
آیت کے اس جملے کی روشنی میں وہ شخص مسجد کا متولی نہیں بن سکتا جو دنیاوی مصلحتوں پر دینی قدروں کو قربان کر دیتا ہے۔
۔ جو نماز و زکوٰۃ کا پابند نہں ہیں اور اللہ کے علاوہ سب کا خوف دل میں رکھتا ہو، وہ فرد یا کمیٹی، مسجد کے متولی نہیں بن سکتے۔
لہذا مجمع علماء وخطباء حیدرآباد دکن عبادت خانہ کی کمیٹی و مصلیان اور ذمہ داران سے اور دیگرتمام مومنین سے خواہش واپیل کرتے ہیں اپنی اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئےدنیاوی مصلحتوں پر دینی امور اور دینی قدروں کو پامال وقربان نہ کریں بلکہ دینی امور میں زیادہ سے
زیادہ حصہ داراورکارخیروعمدہ وبہترین کام کا بیڑا اٹھائیں اور بغیرکسی خوف کےآگے بڑھیں اورخیرخوبی سے انجام تک پہنچائیں ۔
ط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں