36

وسیم کے فتنہ انگیز بیان آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ کا احتجاجی جلوس ki

جنوب ہندوستان صوبۂ آندھرا پردیش ضلع مشرقی گوداوری نگرم میں آج اترپردیش شیعہ وقف بورڈ سابق چیئرمین گستاخ وسیم رضوی کے قرآن کریم کے خلاف توہین آمیز بیان کی مخالفت میں مقامی علماء اور مومنین پُرزور احتجاج کیا جس میں صدر آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ و گورنمنٹ شیعہ قاضی مولانا سید عباس باقری صاحب نے وسیم کے فتنہ انگیز بیان کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عاَلم اسلام کو چاہئیے کہ اس وقت قرآن اور تعلیماتِ اہلبیت ع سے خود کو آراستہ کریں اور اپنے صفوں میں نظم و اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اس طرح کے فتنہ پروروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور کہا وسیم رضوی جیسے لوگ تو سیاسی مجبوریوں کی بنا پر دانستہ و نادانستہ طور مہرہ اور آلۂ کار بن جاتے ہیں اسلام کا اصل دشمن تو پس پردہ رہ کر سازشیں رچ رہا ہے اسی طرح مولانا عباس علی خوئی صاحب نے بھی وسیم رضوی کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی ایک آیت کا انکار مکمل قرآن کا انکار ہے اور اس طرح وسیم رضوی کو مسلمان کہنے کا حق نہیں ہے حتیٰ اس کے نام کے آگے سے رضوی کو بھی ہٹادیا جانا چاہئے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کرنے والے مومنین نے وسیم رضوی کی مخالفت اور اتحاد و ہمبستگی کی تائید نعرے لگائیں ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں