18

یونیورسٹی میں واقع آرٹس کالج کی عمارت کی مرمت کے اقدامات کئے جارہے ہیں

حیدرآباد 10 فبروری ( ٹی ین اس نیوز)۔
حکومت تلنگانہ کی جانب سے قدیم عمارتوں کے تحفظ اور اس کی مرمت دیکھ بھال کے لئے جاری کئے گئے احکامت پر عمل کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے قدیم عمارتوں کی نگہداشت اور مرمتوں کا کام جاری ہے جی ایچ ایم سی عثمانیہ یونیورسٹی میں واقع آرٹس کالج کی عمارت کی مرمت کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جی ایچ ایم سی 3 کڑوڑ روپئے جاری کرتے ہوئے آرٹس کالج کی عمارت کو مزید دس سال تک برقرار رکھنے کے معیاری کاموں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ نظام کے دور میں تعمیر کی گئی یہ قدیم عمارت شدید بارش اور سابقہ حکمرانوں کی عدم توجہ کی وجہ سے کئی عرصوں سے خستہ حالت کا شکار ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں واقع آرٹس کالج کی قدیم یہ عمارت بنیادی طورپر تقریبن ایک لاکھ مربع فٹ پرنظام دور حکومت میں تعمیر کی گئی ہے۔ گزشتہ کئی عرصوں سے اس عمارت کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہہ سے عمارت بوسیدہ ہوتی جارہی ہے ۔ جس کی وجہہ سے اس قدیم عمارت کی چھت سے پانی ٹپک رہا ہے جس کی وجہہ سے عمارت کی دیوریں ، فرنیچر اور بجلی کا نظام خراب ہورہا ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر سی ایچ گوپالریڈی اور آرٹس کالج کے پرنسپل ڈی رویندر نے حال ہی میں عمارت کے حالات کی وضاحت کی اور انچارج وائس چانسلر نے پرنسپل سکریٹری اروند کمار اور جی ایچ ایم سی کمشنر کو آرٹس کالج کی عمارت کے تعلق سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جس پر کاروائی کرتے ہوئے محکمہ بلدیہ نے ایچ ایم ڈی اے کو آرٹس کالج کی عمارت کی مرمت کی زمہ داری دی گئی ہے۔
ساتویں نظام آصف جاہ میر عثمان علی خان نے 5 جولائی 1934 کو 30 ایک لاکھ روپیوں کی لاگت سے آرٹ کالج کے پانچ ایکڑ پر عمارت کی تعمیر کی بنیاد رکھی گی تھی ۔ اس عمارت میں کانجیورم ، کوئمبٹور ، سالم ، تانجاور ، ترکاپلیم اور تریونیلوی سے چھ سو سے زیادہ مردوروں نے آرٹس کالج کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ گرینائٹ ، پالش گرینائٹ ، سیمنٹ ، آر سی سی ، اسٹیل ، چونا ، ریت اور گلابی گرینائٹ جیسے تعمیراتی اشیئاء کا استمعمال کرتے ہوئے 65 مہینوں میں تقریبا 2.5 لاکھ مربع فٹ مکمل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا اور اس عمارت کی تعمیر کا کام 4 دسمبر 1939 کو مکمل ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں