11

حضرت حامی فن اور شخصیت بحوالہ مرثیہ گوئی

حضرت حامی فن اور شخصیت بحوالہ مرثیہ گوئی
تعزیتی جلسہ سے علماء دانشور اور شعرا کا خطاب

بزمِ سفیرانِ میثم کے زیر اہتمام 7 فبروری 2021 کو شام 7:30 بجے ادارہ عالیہ جامعہ علوم حیدری میں حضرت ابراہیم علی حامی کو بطور خراج ایک اہم تعزیتی جلسہ زیر صدارت مولانا سید لقمان حسین موسوی کا انعقاد عمل میں آیا، جسمیں علماء و دانشورانِ ادب اور شعرا نے حضرت حامی کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا۔ آغاز میں مولانا سید محمد رضا زیدی نے قراتِ کلام پاک پیش کی اور جناب رضا علی رضا و حسن عباس احسن نے نعت و منقبت پیش کی۔ صدر بزمِ سفیرانِ میثم علی انجم صادق نے خیر مقدمی کلمات ادا کئے۔ مولانا سید حیدر زیدی نے حضرت حامی کی شخصیت کے عنوان سے اپنے جامع بیان میں انھیں عہدِ حاضر میں تہذیبِ رفتہ کا علمبردار قرار دیا اور نئی نسل کے شعراء کو حضرت حامی کی شاعری کے ساتھ انکی سیرت و کردار کو نمونہ عمل بنانے پر زور دیا۔ پروفیسر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے حضرت حامی کی مرثیہ گوئی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت حامی نے اپنے مراثی میں مروجہ اجزاء کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے عہد کی زبان و بیان کے ساتھ معاشرتی تہذیب و حالات کو پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ پروفیسر صاحب نے حضرت کے کلام کی اشاعت میں اپنے جزوی مالی تعاون کا پیشکش بھی کیا۔صدر جلسہ مولانا سید لقمان حسین موسوی صاحب قبلہ نے اپنے صدراتی خطاب میں حضرت حامی کی شاعرانہ عظمت کو بھر خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت حامی نے اپنی نعتیہ ،مدحیہ و رثائی شاعری کے ذریعے نئی نسل کیلئے روشن نقوش ترتیب دئے ہیں۔ جناب محمد علی وفا و جناب باقر محسن نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ جناب سید علی طاہر عابدی نے نظامت کے فرائض انجام دے اور ادب دوست حضرات کی قابل لحاظ تعداد نے شرکت کی۔ یہ تعزیتی جلسہ جناب علی عنایت کے ہدیہ تشکر پر اختتام پذیر ہوا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں