71

شھید قاسم سلیمانی انسانیت کے محافظ تھے

شھید قاسم سلیمانی انسانیت کے محافظ تھے۔ ایرانی سفیر ڈاکٹر علی چگنی نئی دہلی ۳ جنوری امریکی دہشت گردانہ حملہ میں شہید قاسم سلیمانی، ابو مھدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر آل انڈیا شیعہ کونسل اور تنظیم اہل بیت کے زیر اہتمام دہلی کےمصطفیٰ آباد میں جلسہ تعزیت اور مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر جناب علی چگنی نے شہید قاسم سلیمانی کو انسانیت کی راہ میں جان کی قربانی پیش کرکے شہادت حاصل کرنے والا عظیم مجاہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کے خوفناک جرائم کو دیکھتے ہوئے ایسے دور میں جب داعش شام اور عراق میں اپنی پوری طاقت سے تباہی مچا رہے تھے اور ہر طرف بے سہارا اور مظلوم انسانوں کا خون بہہ رہا تھا، شہید قاسم سلیمانی نے بلا تفریق مذہب و ملت ہر قوم کے لوگوں کو نجات دلائی، عراق و شام کے کرد، ترک، ایزدی شیعہ، سنی اور ہندوستان کی نرسوں کو داعش کے جلادوں کے چنگل سے بچایا یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت پر ہر دردمند انسان سوگوار اور غمزدہ ہے۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولاناجنان اصغر مولائی نےکہا کہ شہید قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں نے عالمی سامراجیت کی پشت پناہی میں سراٹھانے والے سب سے خونخوار گروہ داعش کا خاتمہ کرکے عزت اور سربلندی کے راستے پر پورے افتخار کے ساتھ جام شہادت نوش کیا ان کی شہادت درحقیقت شیطانی سامراجیوں کی طرف سے ان کے ناپاک منصوبےاور داعشی عزائم کی بربادی و نابودی کا بدلہ تھا،وہ انہیں شہید کرکے چین کی سانس لینا چاہتے تھے لیکن اس خون ناحق کے بہنے کے بعد سے اب تک وہ اور زیادہ خوف وہراس میں جی رہے ہیں عراق و شام میں ان کا تسلط اور خوف ختم ہوچکا ہے اور عالمی سطح پر بھی وہ ذلیل اور رسوا ہورہے ہیں۔
مولانا جلال حیدر نقوی نے شہید قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کو خراج عقیدت ہیش کرتے ہوئے کہا کہ حق وصداقت کی راہ میں اور انسانیت کی فلاح ونجات کیلئے شہید قاسم سلیمانی کی جد وجہد اور انتھک قربانیاں اور آخرکار اسی میں شہادت کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا انہوں نے مشرق وسطیٰ اور لاکھوں انسانوں کی جان کا تحفظ کیا، ہمارا ملک ہندوستان ان کی باہمی روابط کے فروغ اور بھارتی شہریوں کے تحفظ میں کی گئی کوششوں کیلئے ان کوہمیشہ یاد رکھے گا۔
مولانا مرزاعمران علی نے پروگرام کی نظامت کے فرائض کو انجام دیتے ہوئے شہید کی خدمات اور جذبہ قربانی اور شہادت کیلئے ان کے شوق واشتیاق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن انہیں قتل کرکے خوش ہونا چاہتا تھا مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ ان کی دیرینہ آرزو پوری ہورہی ہے اور یہ خون ان کیلئے دریائے نیل ثابت ہوگا۔
مولانا احسن عباس امام جماعت مصطفیٰ آباد نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی آرزوئے شہادت لئے ایران،شام،عراق، لبنان کے محاذوں پر دشمنوں کے خلاف نبردآزما رہے آخر انہیں بغدادا میں شہادت کا عظیم درجہ حاصل ہوا اور انہوں نے شہادت کو ژھونڈ لیا۔
اس جلسہ تعزیت اور مجلس عزا میں حاذق حسن اور علی رضا گوپالپوری نے شعری خراج عقیدت پیش کیا اور شہید قاسم سلیمانی، شہید ابو مہدی المہندس، آیت اللہ شہید باقر النمر، آیت اللہ مصباح یزدی، شہید محسن فخری زادہ اور تمام شہداءِ اسلام کے لیے فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کیا گیا۔ تلاوت کلام پاک مولانا کیفی اور مرثیہ خوانی استاد کلب حسن نے کی۔ اس مجلس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں