97

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی حیات و خدمات پر مشتمل کتاب’’زندہ شہید

چھوٹا امامباڑہ لکھنؤ میں کتاب ’’زندہ شہید‘‘ کے تیسرے ایڈیشن کی تقریب رونمائی

شہید جنرل قاسم سلیمانی کی حیات و خدمات پر مشتمل کتاب’’زندہ شہید ‘‘ کے تیسرے ایڈیشن کی تقریب رونمائی عمل میں آئی ۔شہیدقاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی پہلی برسی کے موقع پر چھوٹا امامباڑہ لکھنؤ میں مجلس ایصال ثوا ب سے قبل آفتاب شریعت حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب قبلہ کے ہاتھوں کتاب ’’زندہ شہید‘‘ کی رونمائی کی گئی ۔
کتاب ’’زندہ شہید ‘‘اردو زبان میں شہید قاسم سلیمانی پر لکھی گئی سب سے پہلی کتاب ہے جس کے مؤلف حجۃ الاسلام مولانا سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری ہیں ، اس کتاب میں شہید قاسم سلیمانی کی زندگی کے اہم گوشوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ، اس میں شہید کی اخلاقی خصوصیات کے ساتھ ساتھ زندگی کے یادگار لمحات اوراہم خاطرات بھی شامل ہیں ، شہید کے متعلق دنیا کی بڑی شخصیتوں کے پیغامات و تاثرات کے علاوہ شہید کی تصویریں بھی اس کتاب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ پوری کتاب ۳۱۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب سب سے پہلے شہید کے چالیسویں کے موقع پر پاکستان میں العارف اکیڈمی سے شائع ہوئی ، پھر پاسداران ولایت کشمیر سے اس کی اشاعت ہوئی اور اب تیسری مرتبہ شعور ولایت فاؤنڈیشن لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے۔
اس تقریب رونمائی میں آفتاب شریعت مولانا سید کلب جواد صاحب قبلہ کے ہمراہ مولانا سعید الحسن صاحب ، مولانا نثار احمد زین پوری صاحب ، مولانا رضا حسین صاحب ، مولانا اعجاز حیدرصاحب اور مولانا زوار صاحب کے علاوہ دیگر علمائے کرام موجود تھے ۔
رونمائی سے قبل ناظم جلسہ نے کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ اپنے موضوع پر انتہائی جامع کتاب ہے ، کتاب کا عنوان رہبر معظم آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای دامت برکاتہ کے ایک خطاب سے ماخوذ ہے ، خود رہبر معظم نے ایک ملاقات میں شہید قاسم سلیمانی کو ’’زندہ شہید ‘‘ کا خطاب دیاتھا ۔

اس تقریب رونمائی میں علمائے کرام کے علاوہ کثیر تعداد میں مومنین کرام موجود تھے ، تقریب رونمائی کے بعد آفتاب شریعت مولانا سید کلب جواد صاحب نے مجلس سے خطاب کیا اور شہادت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی حیات و خدمات کو موضوع سخن قرار دیا ۔ یہ مجلس ایصال ثواب مومنین شہر لکھنؤ کی طرف سے منعقد کی گئی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں