30

قاسم سلیمانی

تری جستجو میں چلی گئی یہاں جانثاروں کی جان تک
تو گیا تو ایسے چلا گیا کہ نہیں قدم کے نشان تک
کئی مقتلوں سے گزر کے اب ہوں قریب تیرے ظہور سے
نہ رہوں تو نسل رہے مری ترے دور امن و امان تک

قطعات تہنیت بنام شہیدان راہ حق

وہ کون ہیں کہ جو کرتے ہیں بیعت فاسق
رہ وفا میں ہیں بازو کٹانے والے کون
لٹا رہے ہیں ہم اپنے لہو کی اشرفیاں
سوا ہمارے ہیں ایسے خزانہ والے کون

دل اسلام کے ٹکڑے تھے تیری لاش کے ٹکڑے
نہیں جائیگی ہر گز رائیگاں یہ تیری قربانی
شہادت قاسم نوشاہ کی جب بھی بیاں ہوگی
شہادت بھی تری یاد آئیگی قاسم سلیمانی
علی وقت سے نسبت تھی حرب و ضرب کے فن کی
خبر رکھتی تھی تیری بجلیاں دشمن کے خرمن کی
یقینا تو ہمارے عہد کا تھا مالک اشتر
کہ تیرے نام ہی سے نیند اڑ جاتی تھی دشمن کی
آغا سروش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں