108

عزاداری نہیں رکے گی!

عزیزان ایمان، ہم کو پوری رعایت کے ساتھ اس سال محرم میں عزاداری کرنا ہے، جس طرح سے ہم نماز جمعہ اور مساجد میں شریک ہو رہے ہیں، اور ہسپتال وغیرہ میں بھی جا رہے ہیں، تو جس طرح ہم وہاں رعایت کر رہے ہیں، اسی طرح ہم کو عزاداری میں بھی رعایت کرتے ہوئے مراسم عزاداری کو ادا کرنا ہوگا، مجالس عزا درحقیقت انسانیت کا شفاخانہ ہے، جس طرح نماز جمعہ میں ہم فاصلے کے ساتھ عبادات انجام دے رہے ہیں بالکل اسی طرز پہ مجالس عزا کا انعقاد ہو، اور وہاں بھی فاصلوں کی رعایت کرتے ہوئے عزاداری کی جائے، بس شعور بیدار ہونے کی ضرورت ہے، اگر شعور بیدار ہو جائے تو انسان تمام کام کر سکتا ہے، جلوس بھی نکالا جا سکتا ہے، ہر انجمن اپنے اپنے طور پر سب کا خیال کرے اور رعایت کرے اور اپنا وظیفہ ادا کریں، ایک بات جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ رعایت کرے اپنا خیال بھی کرے اور برادر مومن کا بھی خیال کرے ضعیف حضرات اور چھوٹے بچوں کا بھی خیال کرے، عزاداری کا مقصد ہی انسانیت کا تحفظ ہے، جب ہم شریعت کی گائیڈ لائینز پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں کسی اور گائیڈلائنز کی ضرورت ہی نہیں، جب انسان اللہ کے حکم کی رعایت نہیں کرتا ہے تب اس کے لئے پریشانیاں لاحق ہوتی ہے، عزاداری انسانیت کے تحفظ کی تحریک کا نام ہے، اگر انسانیت کی حفاظت کرنا ہے تو عزاداری کو تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ انجام دینا ہوگا، کیونکہ ⁩عزاداری ہی انسانیت کے اعلی اقدار کا پرچم ہے، لہذا ہم کو چاہیے کہ جب بھی مجالس میں شرکت کریں تو باوضو ہو کر شریک ہو،
-از مولانا سید تقی رضا عابدی صاحب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں